نئی دہلی ،2؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) وزیر اعظم نریندر مودی نے جی ایس ٹی نظام کے تحت تمام اشیاء پر ایک ہی شرح سے ٹیکس لگانے کے تصور کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرسڈیز کار اور دودھ پر ایک ہی شرح سے ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے تحت تمام اشیاء4 پر 18 فیصد کی ایک اسی شرح سے کر لگانے کی کانگریس پارٹی کی مانگ کو اگر قبول کیا جاتا ہے تو اس سے اناج اور بہت ضروری اشیاء پر ٹیکس بڑھ جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے ایک سال کے اندر ہی بالواسطہ ٹیکس دہندگان کی بنیاد 70 فیصد تک بڑھ گئی۔ اس کے نافذ ہونے سے چیک پوسٹ ختم ہو گئے۔اس میں 17 مختلف ٹیکس، 23 اشیاء کو ایک کیا ہے۔مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی وقت کے ساتھ بہتر ہونے والی نظام ہے۔جی ایس ٹی میں مرکزی مصنوعات ٹیکس، ریاستوں میں لگنے والے ویٹ ٹیکس اور دیگر ٹیکس کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد انسپکٹر راج کو ختم کرتے ہوئے بالواسطہ ٹیکس کوسادہ بنانا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ یہ بہت آسان ہوتا کہ جی ایس ٹی میں صرف ایک ہی شرح رہتی، لیکن اس کا یہ بھی مطلب ہو گا کہ کھانے اشیاء پر ٹیکس کی شرح صفر نہیں ہوگی۔کیا ہم دودھ اور مرسڈیز پر ایک ہی شرح سے ٹیکس لگا سکتے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ اس لئے کانگریس کے ہمارے دوست جب یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس جی ایس ٹی کی صرف ایک درجہ ہونی چاہیے، ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ وہ کھانے کی اشیاء اور اشیاء کے استعمال پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس لگایا چاہتے ہیں، جبکہ اس وقت ان مصنوعات پر صفر یا پانچ فیصد کی شرح سے ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ مودی نے کہا کہ آزادی کے بعد سے جہاں 66 لاکھ بالواسطہ ٹیکس ادا کرنے والے ہی رجسٹرڈ تھے وہیں ایک جولائی 2017 کو جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد ان ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 48 لاکھ نئے صنعت کاروں کا رجسٹریشن ہوا ہے۔